Sunday , November 18 2018

ہنومان واٹکا (آشرم) رام لیلا میدان کے گرو ماہ تیاگی  سے ایک انٹر ویو

آصف علی روڈ پر واقع ہنومان وٹیکا (آشرم) میں گرو ماہ تیاگی جی سے پیغام مادر وطن ایڈیٹر مطیع الرحمن عزیز کا تفصیلی انٹر ویو عوام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جس کا مقصد ملک میں بھائی چارہ اور حب الوطنی کو فروغ دینا اور گنگا جمنی تہذیب میں اضافہ کرنا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ملک میں تمام مذاہب اور فرقہ کے ماننے والے اپنے اپنے طریقہ عبادت و بندگی کو قائم رکھتے ہوئے ملک کے تانے بانے کو جوڑتے ہوئے آپسی اتحاد کی مثال پیش کریں تاکہ ملک دنیا کے سامنے فخر سے کثرت میں وحدت کا مثال قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ زمانہ ماضی میں ہمارے بزرگوں کے اقوال کے مطابق جب گاﺅں میں اپنی پوری کی پوری زندگیاں بسر کی جاتی تھیں اس وقت مذاہب کا آپس میں ٹکراﺅ نہیں تھا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ سیاسی داﺅپیچ کے درمیان یہ عوامی دور اندیشی ماند پڑتی گئی جس کا نقصان غریب عوام کو جھیلنی پڑی اور جس کی قیمت عام عوام کو اکثر وبیشتر چکانی پڑی ہے۔ اگر اس کھائی کو پاٹنے کیلئے سو افراد میں ایک فرد ہی کام کرنے کیلئے آگے آئے تو بڑی حد تک کامیابی قدم چومے گی۔
سوال: مہاراج جی آداب: مجھے آپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں پیغام مادر وطن کا ایٹر ہوں یہ اخبار دہلی سمیت ملک کے دیگر ریاستوں سے بھی شائع ہوتا ہے۔ اخبار کا مقصد اولین دن سے گنگا جمنی تہذیب کی آبیاری کرنا اور بھائی چارہ کا فروغ دینا ہے۔ اس کام میں میرے ساتھ بھائی صاحب گریش جویال جی بھی ہمارے گرو کی حیثیت سے ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ ہمارے کاموں سے آپ کو کیسی خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جواب: آداب ۔ السلام علیکم ۔ نمشکار ۔ہمارا ملک ایک چمن ہے ۔ جس میں طرح طرح کے پھول اور پودے لگائے گئے ہیں۔ ہر پھول اور پودا وطن بھارت ماتا کیلئے سنجیونی کا مثال ہے۔ آپ لوگوں کی مہم کی میں دل سے سراہنا کرتا ہوں ۔ جب جب مجھے اپنے بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد اور بھائی چارہ کوچوٹ پہنچتے دیکھتا ہوں میرا دل تار تار ہو جاتاہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کی خوبصورتی اسی بات میں ہے کہ ہم سب ایک دوسرے مل جل کر رہیں ۔ ہمارے ملک کی طاقت اسی بات میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو کر اپنے ملک کو سونے کی چڑیا بنانے میں حکومت اور تمام حکومتی ایجنسیوں کا ساتھ دیں تبھی ہم ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے دنیا کے سامنے مانے جانے جائیں گے۔
سوال: گرو جی مہاراج! آپ ہنومان واٹیکا کے جانشین ہیں۔ آپ کو یہ موقعہ کب میسر ہوا اور یہاں تک کا لمبا سفر آپ نے کیسے پورا کیا۔
جواب: میں بہت چھوٹا سا تھا جب ہریدوار کے اطراف میں زندگی بسر کرتا تھا تو میرے گرو جی پریاگ داس جی تیاگی نے مجھے اپنے پاس رکھا اور مجھے میرے حوصلہ اور ہمت کی وجہ سے دہلی کے ہنومان واٹیکا میں قیام کرنے اور گﺅ سیوا کے لئے بھیجا ۔ میں یہاں آیا تو آس پاس مسلم آبادی ہونے کی وجہ سے مجھے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی بار مجھے ڈرانے دھمکانے اور پریشان کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے۔ یہ تمام حملے حربے عام مسلمانوں کی طرف سے نہیں تھے بلکہ ان لوگوں کی جانب سے جو بلڈر لابی تھے۔ جنہیں ایسا لگتا تھا کہ اگر یہ بڑا زمین کا حصہ قبضے میں آجائے تو مہنگی اور وقت کے لحاظ سے کافی کار آمد ہوگی۔ لیکن جوں جوں حملے بڑھتے گئے میری طاقت اور ہمت بڑھتی گئی۔ لہذا ایک ایک اینٹ کرکے میں نے اور پرچارک سادھﺅں نے اس کام میں میری مدد گی۔ کئی ایک گایوں کا سموہ میرے پاس جمع ہو گیا۔ جن کے خرچے برداشت کرنے میں میں ناکام تھا جسے میں نے گرو جی کے پاس بھیج دیا اور کہلا دیا کہ انہیں آپ رکھ لیں میرے پاس ان کے چارے کا بندوبست نہیں ہے۔ لیکن گرو جی نے ان گایوں کو واپس بھیجا اور کچھ روپئے پیسے بھیج کر گایوں کو اپنے پاس رکھنے کی نصیحت کی۔ بعد میں گایوں کا بڑا مجموعہ میرے پاس اکٹھا ہوگیا۔
سوال: گرو جی مہاراج! آپ اس جگہ سے کئی طرح کی مہم چلا رہے ہیں ۔ فلاحی رفاہی اور کئی طرح کے اچھے کام جیسے شادی ویواہ میں مدد ، جگہوں کی فراہمی وغیرہ میں آپ کی مدد کس طرح کیا کرتے ہیں کیا کرتے ہیں۔ تفصیل سے بتائیں۔
جواب : سماجی خدمت کے کئی کام ہمارے یہاں سے ہوتے ہیں۔ بچیوں کی کمپیوٹر ٹریننگ اور سلائی کڑھائی اور ہنر سے متعلق کئی طرح کام بلا تفریق مذہب وملت کام کرتے ہیں۔ ہفتے بھر الگ الگ ہنر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ہمارے یہاں فری کیمپ کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہزاروں افراد کی دوائیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ واٹیکا میں کافی جگہ دستیاب ہے غریب اور لاچار افراد کے بچوں اور بچیوں شادی کی تقریب کیلئے جگہ کی فراہمی ہمارے ذمہ ہوتی ہے۔ اسی طرح سے بڑے بڑے اجلاس میں ہنومان واٹیکا کی جانب سے مفت میڈیکل کیمپ اور کھانے پینے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
سوال : گرو جی مہاراج! اس جگہ یعنی ہنومان واٹیکا سے آئندہ فلاحی کاموں کا کیا پلان ہے۔ جو آپ کے ذہن میں ہے اور کیا کچھ کرنے کا آپ ارادہ رکھتے ہیں۔
جواب : جن کاموں کا سلسلہ ابھی چل رہا ہے انہی کاموں کو مزید اور تیز رفتار سے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ علاقہ سے آنے والے بچوں کو جس میں اکثر مسلم بچے ہیں ان بچوں کو ترقی کیلئے ہم عہد بند ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک میں بچوں کو پڑھنے اور کھیلنے کا پورا موقع دستیاب ہو۔ تاکہ بچوں کو ترقی کرنے میں پوری مدد ملے۔ ہمیں قدرت نے جتنا طاقت بخشی ہے ہم پوری طرح سے اس میں کامیاب ہیں۔ ہمارے آئندہ بھی اور ہمیشہ اس بات کی کوشش جاری رہے گی کہ اس طرح کے فلاحی اور ہنر مندی کے کام کرتے رہیں۔
سوال : گرو جی مہاراج!آپ کو مچان والے بابا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے کچھ روشنی ڈالیں۔
جواب : یہ ایک طرح کی سادھنا ہے ۔ پرانوں میں اور بزرگوں رشیوں سے یہ سلسلہ چلتا آیا ہے کہ پھونس جھاڑ کے بنے ہوئے گھروں میں اپنی عبادت وریاضت کو فروغ دیا جائے۔ اس ماضی میں بھی چلتا تھا ۔ اور اب بھی ہم اس رسم کو با حیات رکھنا چاہتے ہیں ۔ پہلے ہماری یہ کٹی بغیر چھت کی تھی ۔ بعد میں ہم نے چھپر اور کٹی کی شکل میں بنا دیا گیا۔ اس سے آنے والی نسلوں کو گزری ہوئی طاقتوں کے بارے میں دھیان آئے گا۔ اور ایک رسم کو تقویت ملے گی۔
سوال : گرو جی مہاراج!کوئی ایسی بات ہو میں نہ سوال کر سکا اور جو آپ بتانا چاہتے ہیں بیان کریں تاکہ ہم اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
جواب : جب ایمرجنسی کا وقت تھا ۔ اندرا گاندھی نے اپنی انا نیت کے چلتے ایمر جنسی کا نفاذ کیا تھا۔ جس میں تمام ملک کے افراد متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت ہمیں یاد ہے کہ علاقے کے تمام مسلم اور غیر مسلم سبھی بھائی ہمارے یہاں کھانوں اور کی عدم فراہمی کی وجہ سے قیام کرتے تھے۔ ایک گھنٹے کے لئے کرفیو میں چھوٹ دی جاتی تھی اور آنا فانا میں وقت کے خاتمے کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ یہ ایسا موقع تھا جب تمام علاقے والوں کو آپسی تال میل اور بھائی چارہ کے فروغ کا کافی احساس ہوا۔ اس موقعہ پر بلا تفریق مذہب وملت لوگ ایک دوسرے کے کام آئے ورنہ بچوں کو دودھ اور ضروری اشیا کیلئے کافی مشقت کرنی پڑی تھی۔

About Voice of Muslim

Voice of Muslim is a new Muslim Media Platform with a unique approach to bring Muslims around the world closer and lighting the way for a better future.
SUPPORT US

Powered by themekiller.com anime4online.com animextoon.com apk4phone.com tengag.com moviekillers.com