Sunday , August 9 2020

مظلوموں کی آہ تو نہیں لگی ؟

پرویز عالم 8090770786

اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کو لے کر ڈر اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیے ایک عجیب سا سناٹا ہے ۔بھا گتی دوڑتی دنیا کو جیسے اچانک بریک لگ گیا ہو، ہر طرف ٹھہراؤ ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ ٹھہراؤ میں چین و سکون ہو بلکہ ہر شخص ڈرا ہوا سہما ہوا ہے، خود سے انسان خوفزدہ نظر آرہا ہے۔ع جھجھک کے خود سے بھی ملنا ہے، کیا قیامت ہے۔

اسلامی عقائد و نظریات کے اعتبار سے جب جب اللہ تعالیٰ کی سرزمین پہ گناہوں کا ارتکاب بہت بے باکی کے ساتھ ہوا ہے رب قدیر کی ناراضگی کے باعث کبھی آندھی کبھی طوفان کبھی سیلاب اور کبھی ہیضہ ا ور پلیگ جیسی وبائی بیماریاں عتاب الٰہی کی شکل میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن قوموں کی تاریخ پڑھ ڈالیے ،اوراق ماضیہ کھنگھال لیجیے، آپ کو ایسا کہیں نظر نہ آئے گا کہ ایک آفت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو، ایک وبا نے دنیا کے سارے لوگوں کا ناک میں دم کردیا ہو، ماضی میں قوم عاد، قوم ثمود، قوم حضرت لوط، قوم حضرت صالح اور قوم فرعون و دیگر اقوام پر عتاب الٰہی کسی نہ کسی شکل میں نازل ہوا ہے۔ لیکن اس کا دائرۂ اثر ایک مخصوص قوم ،خاص طبقہ اور ایک مخصوص علاقہ رہا ہے ۔دنیائے انسانیت نے یہ ہولناک منظر پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ہی وبائی بیماری نے پوری دنیا کے اکثر ممالک کو اپنی زد میں لے لیا  ہے۔ دنیا کے سائنس داں حیران و پریشان ہیں، دانشوروں کی عقلیں گم ہیں،ارباب اقتدار و اختیار خوفزدہ ہیں، سائنس کے تمام ترقیاتی دعووں کی عمارتیں زمیں بوس ہوتی نظر آرہی ہیں، گھٹنے ٹیک دیے ہیں قدرت کا انکار کرنے والوں نے، خدائی کا دعویٰ کرنے والوں کو آج اپنی بے وقعتی کی اوقات معلوم ہوگئی ہے ۔اسر ائیل کے وزیر صحت نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں تو برملا اظہار کردیا کہ دنیا کے سائنسدانوں کے پاس اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔سینہ تان کر چلنے والوں کو آج اپنی بے بسی کا اندازہ ہوگیا ہے، غرور و تکبر سے اٹھی ہوئی گردنیں جنہیں خم ہونے کا مزاج ہی نہیں معلوم تھا وہ بھی قدرت کے ایک معمولی سے جھٹکے میں جھکی جھکی سی نظر آرہی ہیں، لہجے تبدیل ہوچکے ہیں ،زبان و بیان میں بدلاؤ آگیا ہے ،اقتدار کے نشے میں چور رہنے والے اپنی طاقت و قوت کے زعم میں پوری دنیا کو مٹھی میں کرلینے کا خواب دیکھنے والوں کی مجبوری و بے بسی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے ہی میرا پروردگار دریافت فرما رہا ہو: لمن الملک الیوم؟ بولو آج کس کی بادشاہت ہے؟منکرین خدا بھی خدا کے وجود کے قائل ہونے لگے ہیں ،دنیا نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ سپر پاور کا خواب دیکھنے والے لوگ جس خوش فہمی میں مبتلا تھے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی عظیم قوت و طاقت والی ذات ہے ،وہی دنیا کی سپرپاور ہے وہ جب چاہے جسے چاہے خاک میں ملا کر رکھ دے۔ ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے خوف و ہراس کا ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ ہر شخص کے سر پہ موت ناچ رہی ہے وہ خود کو موت سے بہت قریب دیکھتے ہوئے عالم اضطراب میں ہے۔

دنیا کی بے بس اور مجبور قوموں کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارنے والے شہروں سے نکال کر سمندر کے ساحلوںاور جنگلوں میں بے کسی اور بے بسی کی تصویر بنانے والے بے قصوروں کو ان کے گھروں میں مجبورو محصور کر دینے والے آج خود انہی کیفیتوں سے دوچار ہیں۔ دوسروں کو لوک ڈاؤن کے صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلوں سے گزارنے والے آج خود انہی کیفیات سے دوچار ہیں۔ ہر شخص خود حفاظتی کے پیش نظر اپنے اپنے مکان میں خود کو قید کر چکا ہے یا پھر حکمرانوں کے جبری قانون کے تحت گھر کی چہار دیواری میں محصور نظر آرہا ہے۔اب تک تقریباً 200 ممالک اس کی زد میں آ چکے ہیں ماہ نومبر کے وسط سے اس وبائی بیماری کا آغاز چین میں ہوا اور پھر دیکھتے دیکھتے پوری دنیا کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ترقی یافتہ ممالک سے لے کر غیر ترقی یافتہ ممالک تک سب اس کی زد میں آ چکے ہیں قابل حیرت بات یہ ہے کہ جو ملک جس قدر ترقی پذیر ہے اس بیماری سے اسی قدر متاثر ہے۔ چین ،اٹلی، فرانس ،امریکہ ،برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک اس وقت بے بسی کی تصویر بنے نظر آرہے ہیں۔ شہزاد ہ چارلس اپنے محل میںاوربرطانوی وزیراعظم اپنے ایوان اقتدار میں اس مہلک مرض کی زد میں آگئے۔ دنیا بھر میں صاحبان اقتدار و اختیا ر اپنے اپنے ملک کے باشندوں سے ذرائع ابلاغ کے توسط سے سماجی دوری بنائے رکھنے کی اپیل و درخواست کر رہے ہیں، تمام عبادت گاہیں بند کردی گئی ہیں ،ایوان اقتدار میں دم توڑتا ہوا سناٹا ہے، بازار مول شاپنگ سنٹر سنیما گھروں میں تالے لٹک رہے ہیں ،بازاروں کی تمام چہل پہل رخصت ہوچکی ہے، دنیا کے کئی ممالک میں تو قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پولیس اور فوج کے جبر و تشدد کا شکار بھی ہونا پڑا۔ کچھ مقامات پر انتظامیہ کی زیادتی کے سبب بھوک اور پیاس سے مجبور ہو کر اپنے گھروں سے نکلنے والوں کو شدت فاقہ سے موت سے ہم آغوش ہو جانا پڑا۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں کچھ لوگ کرونا وائرس کی زد میں آکر موت سے ہمکنار ہوں گے ۔تو بہت سارے افراد بھوک اور پیاس سے مر جائیں گے۔

کہاں ہیں وہ لوگ جو اس بات کا نعرہ بہت شد و مدسے لگا رہے تھے کہ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے دنیا کا معاشی ،اقتصادی اور جغرافیائی منظر نامہ تبدیل کردیں گے۔ اللہ نہ کرے لیکن اگر اس وبائی بیماری کا سلسلہ اسی طرح دراز ہوتا رہا تو دنیا میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہونے والے جانی و مالی نقصان سے بھی زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔دانشوروں کا تو ابھی سے اعتراف ہے کہ دنیا اتنی تیزی سے پیچھے جا چکی ہے کہ اسے ٹریک پر لانے میں صدیاں لگ جائیں گی۔

عالمی سازش کے تحت ایک مخصوص قوم کو ٹارگٹ کیا گیا ۔اس کے خلاف مختلف طریقوں سے پروپیگنڈوں کا تسلسل کے ساتھ بازار گرم کیا گیا ۔ اس مہم کو سر کرنے کے لیے نہایت شاطرانہ انداز میں زرد صحافت سے وابستہ ضمیر فروش صحافیوں کا استعمال کیا گیا۔ زرخرید غلاموں کی فوج تیار کی گئی جنہوں نے سادہ لوح عوام کو دین و مذہب کے نام پر دہشت گردی کی تعلیم دی اور پھر انہیں اپنے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ۔مقاصد کی تکمیل کے بعد ان مٹھی بھر افراد کو دہشت گرد قرار دے کر پوری قوم کو ذلیل و خوار کرنے کی گرم بازاری شروع ہوگئی ،اس سازش کے تحت مسلط کی گئی جنگو ںکی بنیاد پہ نہ جانے کتنے معصوم صفت افراد بھوک و پیاس اور دربدری کے شکار ہوئے ،کتنے لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، لاتعداد لوگ صحراؤں جنگلوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہوگئے، دنیا کے مختلف ملکوں کی سرحدوں پہ پناہ گزیں کی حیثیت سے مظلومیت کی تصویر بن کر بے کسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ جانے کتنے لوگ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے اور اس طرح مظلوم عوام کے روشن مستقبل کو تباہیوں بربادیوں کی تاریکیوں میں غرق کردیا گیا ۔عراق، شام، لیبیا اور فلسطین میں مسلط کی گئی جنگوں سے ترقی یافتہ قوتوں کے افراد بخوبی واقف وآگاہ ہیں۔ لیکن دنیا میں ان بے قصوروں پہ ہونے والے مظالم کےخلاف کوئی تحریک کام نہیں کر رہی ہے ۔ایسا کوئی نہیں ہے جو ظلم و ستم کی داستان تحریر کرنے والوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔ حقوق انسانی کے نام پہ کام کرنے والی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی نظر آرہی ہیں ۔اقوام متحدہ بھی ان مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش سے دست کش نظر آرہا ہے ۔اگر گہرائی سے مطالعہ کریں گے تو صاف پتاچلے گا کہ جوروجفا کے افسانوں کی ترتیب میں ان اداروں کی شراکت اور ساجھیداری ہے۔؎

ظلم پھر ظلم ہے ،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

چنانچہ مظلوم اور ستم رسیدہ افراد کی آہیں اور صدائیں دنیا داروں، مادیت پرستوں کے کانوں سے ٹکرا ٹکرا کر مایوس واپس لوٹ گئیںتو باب اجابت نے ان ٹوٹتی صداؤں کو سہارا دے دیا ۔یقیناًع

دل سے جو آہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

کشمیر میں دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد سات ماہ تک وہاں عام لوگوں کو گھروں میں قید کردیا گیا۔ دنیا اور دنیا والوں سے غیر مربوط ہوکر قید و بند سے بھی زیادہ اذیت بھری زندگی گزاری ،فون ،موبائل، انٹرنیٹ کی سہولتیں بند کر دی گئیں۔ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچیے کس قدر دردناک تصویر ہوگی اور اوپر سے فوجیوں کے ظلم و ستم علیحدہ۔ ہر وقت ایک انجان سا خوف کہ کب گھر کے دروازے پر دستک ہوگی اور فوجی لوگوں کو قید خانے میں لے جا کر ڈال دیں گے۔ کرفیو کے انہی ایام میں  یورپی یونین کے ممبروں کا دورہ ٔکشمیر حکومت ہند کی اجازت سے ہوا تھا جس میں اصول و ضابطے کے تحت کچھ صحافیوں کو بھی ان کے ساتھ کشمیر کے دورے پہ بھیجا گیا تھا۔ اس ٹیم میں اروند مشرا بھی تھے جن کا شمار ملک کے بڑے صحافیوں میں ہوتا ہے ۔اکنامکس ٹائم کے بڑے صحافی کی حیثیت سے وہ صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کرونا وائرس کے بعد ملک میں طویل مدتی لاک ڈاؤن پہ اپنے دور ۂ کشمیر کے حوالے سے ایک دل کو چھو لینے والی مشاہداتی تحریر پیش کی ہے ۔ انہوں نے اس کی سرخی قائم کی ہے’’دنیا کو نفیسہ کی ہائےتو نہیں لگ گئی؟ ‘‘

اروند مشرا دورۂ کشمیر میں وہاں کی مختلف گلیوں سے یورپی یونین کے نمائندوں اور اپنے ہم پیشہ افراد کے ساتھ گزر رہے تھے کہ اچانک ایک گلی سے درد بھری نسوانی آواز نے ان کے قدموں میں زنجیر ڈال دی ۔چنانچہ وہ ٹھہرے اور مڑ کر دیکھنے لگے ایک سہمی ہوئی نقاب پوش خاتون ان کا نام لیکر خطاب کر رہی تھی اروند بھائی! آپ بلال کے دوست ہیں نا؟ دہلی والے بلال ؟بلال آپ کی بہت تعریف کرتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ اروند بہت نیک اور سمجھدار انسان ہیں ۔وہ انسانوں کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ میں نفیسہ عمر ہوں بلال کی پھوپھی زاد بہن۔ مختصر سے تعارف کے بعد اس نے بہت جلدی جلدی تھوڑی دیر میں دکھ درد میں ڈوبی ہوئی داستان بیان کر دی۔ اس کی دکھ بھری کہانی سن کر تو جیسےاروند کے پاؤں جم گئے اور اس کے دکھ درد کا اس قدر تاثر قائم رہا کہ کئی دنوں تک سکون سے نیند نہیں لے سکے ۔جب کبھی تنہائی ہوتی تو نفیسہ عمر کا خیال آتا اس کی دکھ درد بھری کہانی ذہن کے اسکرین پر گھومنے لگتی اور اضطراب و بے چینی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔اس ستم رسیدہ خاتون کے دکھی دل کی آواز اروند مشرا کے الفاظ میں پڑھیے ۔

نفیسہ کہتی ہے ۔اروند بھائی !کسی جگہ لگا تار سات مہینے سے کرفیو لگا ہوا ہو گھر سے نکلنا تو دور جھانکنے تاکنے پر بھی پابندی عائد ہو آٹھ نولاکھ فوجیوں نے چپے چپے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہو۔ انٹرنیٹ، موبائل، ٹیلی فون سب بند ہوں۔ گھروں سے بچوں اور جوانوں اور ضعیفوں سمیت ہزاروں بے قصور افراد کی گرفتاریاں ہوئی ہوں، چھوٹے بڑے سیاسی راہنماجیل میں ہوں، اسکول کالج بند ، دفاتر بند ہوں، لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟ ان کے کھانے پینے کا کیا ہوگا؟ جو مریض ہیں ان کا کیا ہوگا؟ کوئی اس کی فکر کرنے والا نہیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی ڈپریشن اور ذہنی امراض میں مبتلا ہوگئی ہو؟ بچے خوفزدہ ،مستقبل تاریکیوں میں ڈوب چکا ہو، ظلم و ستم اپنی حدوں کو پار کر رہا ہو، روشنی کی کوئی کرن نہ ہو، کوئی سدھ لینے والا نہ ہو، پوری دنیا خاموش تماشہ دیکھ رہی ہو۔نفیسہ عمر اشکبار آنکھوں سے داستان جوروجفا بیان کر رہی تھی ۔ہم نے سب کچھ بہت خاموشی کے ساتھ برداشت کرلیا۔ لیکن اس وقت دل روتا ہے، ایک چوٹ لگتی ہے، اک ہوک سی اٹھتی ہے جب ہمدردی کے دو بول بولنے والی زبانیں یہ کہتی ہیں کہ اچھا ہوا ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔ خیر میں نے ان لوگوں کے لیے بھی اور کسی کے لئے بھی کبھی برا نہیں سوچا ،بد دعا نہیں دی۔ اگر کی ہے توبس ایک دعا کی ہے اپنے مولا کے حضور کی ہے۔تاکہ تمام لوگوں کو ساری دنیا کو ہمارے دکھ درد کا کچھ تو احساس ہو ۔اور وہ روتی رہی، اور بولتی رہی۔ سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا اروند بھائی !آپ دیکھنا میری دعا بہت جلدی قبول ہوگی۔ اروند مشرا لکھتے ہیںکہ میں نے دریافت کیا کہ بہن !تم نے کیا دعا کی ہے تو بلکتے ہوئے، پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے، چیخ چیخ کر کہا آج بھی اس کے وہ درد بھرے جملے لفظ بلفظ میرے دماغ پہ ہتھوڑے بن کربرس رہے ہیں۔ نفیسہ نے میرے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ’’ میں نے اپنے مالک سے دعا کی ہے۔ اے اللہ تعالیٰ جو ہم پہ گزرتی ہے وہ کسی پر نہ گزرے ۔بس مولا تو کچھ ایسا کر دے اتنا کردےکہ پوری دنیا کچھ دنوں کے لئے اپنے گھروں میں قیدہو کر رہنے پر مجبور ہوجائے، سب کچھ بند ہو جائے ،دنیا ٹھہر جا ئے، شاید دنیا کو تب یہ احساس ہو سکے گا۔ کہ ہم کیسے جی رہے ہیں‘‘۔اروند مشرا لکھتے ہیں کہ آج جب ہم اپنے گھروں میں بند ہیںتو میرے کانوں میں نفیسہ عمر کے الفاظ گونج رہے ہیں۔اس مظلوم ستم رسیدہ خاتون کے وہ الفاظ جو اس نے اپنے خالق و مالک کے حضور دعا کرتے ہوئے کہے تھے ۔ میں سوچتا ہوں دنیا کو نفیسہ کی ہائے تو نہیں لگ گئی ؟

ظلم و ستم کی بھی اپنی حدیں ہوتی ہیں اور جب مظالم اپنی حدوں کو پار کر جاتے ہیں تو ستم رسیدہ مظلوم کی فریاد غضب الٰہی کو دعوت دیتی ہے اور پھر دنیا اس کی زد میں آنے سے بچ نہیں پاتی۔دنیا کے سیاسی منظر نامے پر ایک نظر ڈال لیجیے ہر طرف ظلم و ستم کی داستان بکھری نظر آئے گی ۔ظالم و جابر حکمراں بے بس و مجبور عوام کو ظلم و ستم کی چکّی میں بے دردی کے ساتھ پیس رہے ہیں ۔شاید انسانی لہو کی اس قدر ارزانی اس سے قبل چشم فلک نے نہ دیکھی ہو گی ۔پتا نہیں نفیسہ جیسے کتنے مرد و خواتین ہیں جو ظالم وجابر حکمرانوں کے جوروستم کے نشانے پہ ہیں ۔آخر یہ آہیں یہ سسکیاں یہ فریادیں کب تک نامراد رہتیں؟

اس ہولناک وبائی بیماری نے امیر و غریب شاہ و گدا اورحکمران ممالک سے لے کر عام باشندوں کو یکساں طور پر خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔اگر آپ گہرائی سے جائزہ لیں تو صاف  پتا چلے گا کہ وقت کے ظالم وجابر حکمرانوں کو یہ غیبی وارننگ ہے کہ وہ ظلم و ستم کے اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اور مظلوم وستم رسیدہ قوم پہ جوروجفاکے پہاڑ نہ توڑیں۔دنیا میں صرف قیام امن و امان کا بلند نعرہ نہ لگائیں بلکہ حقیقی امن وامان قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس سرزمین کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں اور اپنی خود ساختہ ترقیاتی سوچ کا مزاج بدلیں۔ورنہ آگاہ ہوجائیں اس قادر مطلق قہار وجبار کی مضبوط گرفت سے ہرگز ہرگز نہ بچ سکیں گے۔ آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں اور ملکوں کا معیار ترقی یہ ہو چکا ہے کہ وہ دنیا کی تباہی و بربادی کے خواب دیکھ رہی ہیں ۔طاقت و قوت کے مالک ارباب اقتدار و اختیار نے دنیا کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ دنیا پلک جھپکتے ہی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے ۔جو ملک ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے وہاں ارباب اقتدار نے ایٹم بم کے بٹن پر انگلی رکھی اور دنیا دیکھتے دیکھتے تباہ و برباد ہو جائے گی ۔کیا مادیت پرستی کی اس روشن خیال دنیا میں تعمیر و ترقی اسی کا نام ہے؟ یقین فرمالیجیے دنیا کی ترقی انسانوں کی تباہی و بربادی میں نہیں ہے۔ایسے نازک دور میں حالات چیخ چیخ کر تقاضا کر رہے ہیں کہ عوام و خواص سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں سخت خود احتسابی کے عمل سے گزریں۔ تمام ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے بے قصور عوام الناس کو اپنے بے جا ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنائیں ۔ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں۔ انسانی خون کی اہمیت و واقعیت کو محسوس کریں۔اقتدار و اختیار کے نشے میں چور ہوکر تمام حقائق سے آنکھیں موند لینا انسانی اخلاق و آداب کے منافی ہے۔ ارباب حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے تمام باشندوں کو بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل، زبان و ثقافت افراد خانہ کی حیثیت سے دیکھیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں جو اپنے گھر کے افراد کے لیے رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمران اپنی حکومت کا دستور و منشور کتاب اللہ تعالیٰ و سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روشنی میں مکمل طریقے سے تیارکریں۔ مغرب کی کورانہ تقلید میں حرام و حلال جائز وناجائز کا فرق مٹا کر جو اخلاقی انحطاط کے دور کو خوش آمدید کہنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ غضب الہٰی کو دعوت دے رہی ہے۔ اپنے دنیاوی آقاؤں کو خوش کرنے کی بجائے گنبد خضریٰ میں آرام فرمانے والے دو عالم کے تاجدار وجہ تخلیق کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا اور خوشنودی کا قدم بقدم لحاظ وپاس رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے مطابق آپ نے جو اسوۂ زندگی ہمارے روشن مستقبل کے لئے مشعل راہ کے طور پر چھوڑا ہے اسی سے شاہراہ زندگی کو روشن و تابناک کیا جائے ۔عام لوگ اپنی زندگی کا قبلہ درست کرلیں۔ رجوع الیٰ اللہ کے جذبات سے سرشار ہوکر اپنی عملی زندگی کےطاق و ایوان سجانے سنوارنے میں لگ جائیں۔ اسلام کی حقیقی روح سے اپنے قلوب کو تازگی و جاودانی بخشیں۔ اپنی حیات میں ایک زبردست روحانی انقلاب لایا جائے۔       ۃۃۃ

PLEASE ACKNOWLEDGE

The act of charity is very noble and highly admired by Allah (SWT). Just do it for the right people.
Voice of Muslim has been conveying the message of Islam to Muslims and non-Muslims. The aim is to make people aware of the factual news of Islam and the correct Islamic message
وائس آف مسلم مسلمانوں اور غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچاتی رہی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو اسلام کی حقیقت سے متعلق خبروں اور صحیح اسلامی پیغام سے آگاہ کرنا ہے
The Voice of Muslim independent, investigative journalism takes a lot of time, money and hard work to produce. …We are relying principally on contributions from readers and concerned citizens.
Your valuable contribution can save a life or make a difference to the quality of another human life, indirectly contributing to the social & economic stability of the community at large.
برائے کرم امداد کریں! Support us as per your devotion !
www.voiceofmuslim.in (since 2017)
Voice of Muslim
Account Details-
Acount Name :- VOICE OF MUSLIM
Bank Name :- STATE BANK OF INDIA
A/c No. :- 39107303983
IFSC CODE : – SBIN0005679
PAYTM MOBILE NO. 9005000008
Please share this message in community and be a part of this mission

About Shakeel Ahmad

Voice of Muslim is a new Muslim Media Platform with a unique approach to bring Muslims around the world closer and lighting the way for a better future.
SUPPORT US

Powered by themekiller.com anime4online.com animextoon.com apk4phone.com tengag.com moviekillers.com